شب برات
معنی
١ - ماہ شعبان کی چودھویں اور پندرھویں تاریخ کی درمیانی رات (بعض لوگوں کے عقائد کے مطابق خدا کے حکم سے اس رات عمر کا حساب اور تقسیم رزق کا کام ہوتا ہے اس شب کو لوگ آتش بازی چھوڑتے اور بعض لوگ روٹی حلوے پر بزرگوں کا فاتحہ تقسیم کرتے ہیں) یہ خوشی کا تہوار ہے۔ "شب برات آتی تو آتش بازیاں چھوٹیں، میں اپنے گھر میں خود انار بناتا" ( ١٩٨٢ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٣ )
اشتقاق
فارسی اسم مؤنث 'شب' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت لگا کر فارسی اسم 'برات' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ماہ شعبان کی چودھویں اور پندرھویں تاریخ کی درمیانی رات (بعض لوگوں کے عقائد کے مطابق خدا کے حکم سے اس رات عمر کا حساب اور تقسیم رزق کا کام ہوتا ہے اس شب کو لوگ آتش بازی چھوڑتے اور بعض لوگ روٹی حلوے پر بزرگوں کا فاتحہ تقسیم کرتے ہیں) یہ خوشی کا تہوار ہے۔ "شب برات آتی تو آتش بازیاں چھوٹیں، میں اپنے گھر میں خود انار بناتا" ( ١٩٨٢ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٣ )